المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا عِنْدَنَا مِنَ الْمَالِ غَيْرُ قَدَحٍ وَلِقْحَةٍ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَابْعَثِي بِهِمَا إِلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَلَمَّا مَاتَ بَعَثَتْ بِهِمَا إِلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللهُ أَبَا بَكْرٍ ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ .
( 165 ) وَحَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِيمَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ . يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي السِّيرَةِ النَّبَوِيَّةِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: "ہمارے پاس (بیت المال کے) مال میں سے ایک پیالے اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی کے سوا کچھ نہیں ہے، پس جب میں وفات پا جاؤں تو تم یہ دونوں چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دینا۔" پھر جب ان کی وفات ہو گئی تو انہوں نے وہ دونوں چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیں، جس پر انہوں نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا بَكْرٍ» ”اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے“، "انہوں نے یقیناً اپنے بعد آنے والوں کو (اپنے نقشِ قدم پر چلنے اور زہد و تقویٰ کی مثال قائم کرنے کے حوالے سے) سخت مشقت میں ڈال دیا ہے۔"
اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث جو مکہ مکرمہ میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مشرکین کی جانب سے پہنچنے والے مصائب کے متعلق ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ سیرتِ نبوی کے بیان میں آئے گی۔