المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ آلِ أَبِي هَيَّاجٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَعِيشَ ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ... الْحَدِيثَ ، مِثْلُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَفِيهِ : وَلَكِنْ وُدٌّ ، وَإِخَاءُ إِيمَانٍ .آلِ ابی ہیاج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر واقع ہے، یقیناً ایک بندے کو اس کے رب عزوجل نے اس بات کے درمیان اختیار دیا کہ وہ دنیا کی زندگی میں جب تک اللہ چاہے رہے یا اپنے رب کی ملاقات کو منتخب کر لے“، (یہ سن کر) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے... (پھر راوی نے) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح مکمل حدیث بیان کی، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”لیکن (ہمارے درمیان) ایمانی الفت اور دینی بھائی چارہ ہے“۔
اس حدیث کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے، تاہم اس مخصوص سند میں آل ابی ہیاج مستور ہیں، جبکہ منبر کی فضیلت والے الفاظ کو امام ترمذی نے حسن صحیح قرار دیا ہے۔