❮
❯
حدیث نمبر: 3870
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : بَيْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - تَقُولُ لِأُمِّهَا أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيكِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا ؟ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَنْتَ عَتِيقُ اللهِ مِنَ النَّارِ . قَالَتْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : فَمِنْ يَوْمِئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا ، وَدَخَلَ طَلْحَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْتَ يَا طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .
* إِسْحَاقُ فِيهِ ضَعْفٌ ، وَإِنْ كَانَ مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، أَوْ مِنْ أُمِّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، وَإِلَّا فَهُوَ مُنْقَطِعٌ أَيْضًا ، وَذَكَرَ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِيهِ أَخْرَجُوهُ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الطَّرِيقِ ، وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
3870 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : وَاللهِ إِنِّي لَفِي بَيْتِي ذَاتَ يَوْمٍ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِنَاءِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقِ اللهِ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَإِنَّ اسْمَهُ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ : عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ عَتِيقٍ . ...
* رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - مُخْتَصَرًا بِلَفْظِ : أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ عَتِيقُ اللهِ مِنَ النَّارِ ، فَسُمِّيَ مِنْ يَوْمِئِذٍ عَتِيقًا .
ترجمہ

موسیٰ بن طلحہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے (فخریہ انداز میں) کہہ رہی تھیں: ”میرے والد آپ کے والد سے بہتر ہیں“، اس پر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کے درمیان (اس بات کا) فیصلہ نہ کر دوں؟ بیشک ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! تم جہنم کی آگ سے اللہ کے آزاد کردہ (عتیق) ہو““۔ انہوں نے فرمایا کہ اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑ گیا، اور جب طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے طلحہ! تم ان لوگوں میں سے ہو ﴿مَنْ قَضَى نَحْبَهُ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”جنہوں نے اپنی نذر (حقِ وفا) پوری کر دی ہے““۔
اس روایت میں اسحاق بن یحییٰ ضعیف ہے، اگرچہ موسیٰ نے اسے عائشہ بنت طلحہ یا ام کلثوم رضی اللہ عنہم سے براہِ راست سنا ہو، ورنہ یہ منقطع بھی ہے، اور اس میں طلحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ دیگر اسانید سے بھی منقول ہے، نیز معاویہ بن اسحاق نے عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے اسے مختلف سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”خدا کی قسم! میں ایک دن اپنے گھر میں تھی اور رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ صحن میں تشریف فرما تھے اور میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا، اسی دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ دیکھ کر خوشی ہو کہ وہ اللہ کے آگ سے آزاد کردہ بندے کو دیکھے، تو وہ ابوبکر کو دیکھ لے““۔ اور ان کا وہ نام جو ان کے گھر والوں نے رکھا تھا وہ عبداللہ بن عثمان تھا، مگر ان پر عتیق کا لقب غالب آ گیا۔
اسے امام ترمذی نے ایک اور سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم آگ سے اللہ کے آزاد کردہ ہو“، چنانچہ اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑ گیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3870
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْحَاقُ فِيهِ ضَعْفٌ ، وَإِنْ كَانَ مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، أَوْ مِنْ أُمِّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، وَإِلَّا فَهُوَ مُنْقَطِعٌ أَيْضًا ، وَذَكَرَ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِيهِ أَخْرَجُوهُ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الطَّرِيقِ ، وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ ،… »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3578، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3679، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4898، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3870 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9382»