المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، يَقُولُ : إِنْ لَمْ أُفَضِّلْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ عَلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - أَكُونُ قَدْ كَذَّبْتُ عَلِيًّا ، وَإِنِّي إِلَى تَصْدِيقِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَحْوَجُ مِنِّي إِلَى تَكْذِيبِهِ .اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے جریر بن عبدالحمید کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر فضیلت و برتری نہ دوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو جھٹلا دیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیان کی تصدیق کرنے کا اس بات سے کہیں زیادہ ضرورت مند ہوں کہ میں ان کی تکذیب کروں۔“
اس قول سے مراد یہ ہے کہ چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تواتر کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخصیات سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی ہیں، اس لیے ان کی تصدیق کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں افضل مانا جائے۔