المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أُنَيْسِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ عَاصِبٌ رَأَسَهُ بِخِرْقَةٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَأَهْوَى قَبِلَ الْمِنْبَرِ ، فَاتَّبَعْنَاهُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ السَّاعَةَ ... الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ فَضِيلَةُ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَفِي آخِرِهِ : ثُمَّ هَبَطَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا قَامَ حَتَّى السَّاعَةِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں موجود تھے، اور آپ ﷺ نے اپنے سرِ مبارک پر ایک کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، یہ آپ ﷺ کے اس مرضِ وفات کا ذکر ہے جس میں آپ ﷺ کا وصال ہوا، پھر آپ ﷺ منبر کی سمت بڑھے تو ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیے، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ السَّاعَةَ» ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اس وقت (اپنے سامنے) حوضِ کوثر پر کھڑا ہوں...“ پھر مکمل حدیث بیان کی جس میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا ذکر ہے، اور اس کے آخر میں مروی ہے کہ پھر نبی کریم ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور اس کے بعد (وصال تک) دوبارہ منبر پر رونق افروز نہ ہو سکے۔
اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (3859) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔