المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ نفع شفاعته باب: نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے نفع کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فِي زِيِّهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَتَرَيْنَ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا ؟ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ يَنْفَعُ شَفَاعَتِي .
قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي خَلَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ تِلْكَ الْمَرْأَةَ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهَا : إِنَّهُ يَنْفَعُ شَفَاعَتِي وَجًّا وَحَكَمًا .
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَهُمَا قَبِيلَتَانِ ، وَجًّا : قَبِيلَةٌ مِنْ جَوَلَانَ ، وَحَكَمُ بْنُ سَعْدٍ : مِنْ مَذْحِجٍ .قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کو ان کی مخصوص زیب و زینت اور لباس میں دیکھا تو ان سے فرمایا: ”کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تمہاری قرابت داری اللہ کے ہاں تمہیں کچھ فائدہ پہنچائے گی؟“ ان خاتون نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میری شفاعت نفع بخش ہوگی۔“
معمر کہتے ہیں کہ مجھے خلاد بن عبدالرحمن نے اپنے والد کے واسطے سے خبر دی کہ وہ خاتون سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا تھیں، اور آپ ﷺ نے ان سے (مزید وضاحت کے طور پر) فرمایا تھا: ”بے شک میری شفاعت ’وج‘ اور ’حکم‘ (جیسے دور دراز کے قبائل) کو بھی فائدہ دے گی۔“
عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ یہ دونوں قبیلوں کے نام ہیں؛ ’وج‘ جولان کا ایک قبیلہ ہے جبکہ ’حکم بن سعد‘ کا تعلق قبیلہ مذحج سے ہے۔