❮
❯
حدیث نمبر: 3860
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ بِلَالٌ لِأَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، وَلَيْسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدًا ، فَهَلْ لَكَ أَنْ أُؤَذِّنَ وَأُقِيمَ ، وَتُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ شِئْتَ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَأَقَامَ ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ ، فَقَالَ : أَصَلَّيْتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى بِكُمْ ؟ قَالُوا : أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنْتُمْ ، لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (لوگوں کے مابین) صلح کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”نماز کا وقت ہو چکا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس وقت یہاں تشریف فرما نہیں ہیں، تو کیا آپ کی یہ رائے ہے کہ میں اذان دوں اور تکبیر کہوں اور آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اگر تم چاہو (تو ٹھیک ہے)۔“ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں نماز کس نے پڑھائی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے۔“ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے بہت اچھا کیا، کسی ایسی قوم کے لیے جس میں ابوبکر موجود ہوں، یہ زیبا نہیں دیتا کہ ان کے علاوہ کوئی اور ان کی امامت کرائے۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی عیسیٰ بن میمون جریری بصری ضعیف ہے، البتہ نماز پڑھانے والا اصل واقعہ صحیح بخاری و مسلم میں ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3860
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه جامع الترمذي برقم: 3673»