المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ اعتراف القدماء بأعلام نبوته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: متقدمین کے نبی کریم ﷺ کی نبوت کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : إِنَّ نَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ رَكِبُوا الْبَحْرَ عِنْدَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَلْقَتْهُمُ الرِّيحُ عَلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ ، فَإِذَا فِيهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَالَ : وَمَا قُرَيْشٌ ؟ قَالُوا : أَهْلُ الْحَرَمِ ، وَأَهْلُ كَذَا ، فَلَمَّا عَرَفَ قَالَ : نَحْنُ أَهْلُهَا لَا أَنْتُمْ ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ مِنْ جُرْهُمَ ، قَالَ : أَتَدْرُونَ لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ أَجْيَادٌ ؟ كَانَتْ خُيُولُنَا جِيَادًا عَطَفَتْ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقَالُوا : إِنَّهُ خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَذَكَرُوا لَهُ أَمْرَهُ ، فَقَالَ : اتَّبِعُوهُ ، فَلَوْلَا حَالِي الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا ، لَحِقْتُ مَعَكُمْ بِهِ .عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے ابتدائی دور میں قریش کے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے تو تند و تیز ہواؤں نے انہیں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے پر لا پھینکا، وہاں ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے دریافت کیا: ”تم کون ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہم قریش سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔“ اس نے پوچھا: ”اور یہ قریش کیا ہے؟“ انہوں نے جواباً کہا: ”ہم حرم کے رہنے والے اور ایسے ایسے اعزازات کے حامل ہیں۔“ جب اسے حقیقت معلوم ہوئی تو کہنے لگا: ”حرم کے اصل حقدار تو ہم تھے نہ کہ تم۔“ دراصل وہ شخص قدیم قبیلہ جرہم سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر اس نے سوال کیا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مکہ کے مقام اجیاد کا نام اجیاد کیوں رکھا گیا؟“ پھر خود ہی وضاحت کی کہ: ”وہاں ہمارے عمدہ نسل کے گھوڑے کثرت سے جمع ہوتے تھے، اسی نسبت سے اسے اجیاد کہا گیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس شخص سے تذکرہ کیا کہ: ”ہمارے ہاں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔“ اور انہوں نے اس کے سامنے آپ ﷺ کا پورا معاملہ بیان کیا تو اس نے نصیحت کرتے ہوئے کہا: ”تم لوگ ان کی اتباع و پیروی کرو، اور اگر میری یہ موجودہ حالت اور مجبوری رکاوٹ نہ ہوتی تو میں بھی تمہارے ساتھ چل کر ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا۔“
اس اثر کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 900) میں روایت کیا ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں، البتہ عکرمہ بن خالد تابعی ہیں اس لیے یہ کلام مرسل اثر کے حکم میں ہے۔