المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ شَهَادَةِ أهل الكتاب بصدقه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: اہلِ کتاب کے نبی کریم ﷺ کی صداقت کی گواہی دینے کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا كَانَ حِينَ فُتِحَتْ نَهَاوَنْدُ أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ سَبَايَا مِنَ الْيَهُودِ ، فَأَقْبَلَ رَأْسُ الْجَالُوتِ ، فَتَلَقَّى سَبَايَا الْيَهُودِ ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَارِيَةً وَضِيئَةً صَبِيحَةً ، فَقَالَ لِي : هَلْ لَكَ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَى هَذَا الْإِنْسَانِ ، عَسَى أَنْ يُثَمِّنَ لِي فِي هَذِهِ الْجَارِيَةِ ؟ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَدَخَلْنَا عَلَى شَيْخٍ مُسْتَكْبِرٍ ، لَهُ تُرْجُمَانٌ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مَعَهُ : سَلْ هَذِهِ الْجَارِيَةَ : وَقَعَ عَلَيْهَا هَذَا الْعَرَبِيُّ ؟ قَالَ : وَرَأَيْتُ أَنَّهُ غَارَ حِينَ رَأَى حُسْنَهَا ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ ، فَفَهِمْتُ الَّذِي قَالَ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ أَثِمْتَ بِمَا تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ; بِسُؤَالِكَ هَذِهِ الْجَارِيَةَ عَمَّا وَرَاءَ ثِيَابِهَا ، فَقَالَ لِي : كَذَبْتَ ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا فِي كِتَابِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا أَعْلَمُ بِكِتَابِكَ مِنْكَ ، قَالَ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِكِتَابِي مِنِّي ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا أَعْلَمُ بِكِتَابِكَ مِنْكَ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : فَانْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَأَرْسَلَ لِي رَسُولًا لَتَأْتِيَنِّي بِعَزْمَةٍ ، وَبَعَثَ إِلَيَّ بِدَابَّةٍ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ احْتِسَابًا ; رَجَاءَ أَنْ يُسْلِمَ ، فَحَبَسَنِي عِنْدَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَقْرَأُ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ وَيَبْكِي ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ وَاللهِ لَهُوَ النَّبِيُّ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِكُمْ ، فَقَالَ لِي : فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِالْيَهُودِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ الْيَهُودَ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ ، وَغَلَبَ عَلَيْهِ الشَّقَاءُ .
* صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نہاوند کا شہر فتح ہوا تو مسلمانوں کے قبضے میں کچھ یہودی قیدی آئے، اسی دوران رأس الجالوت (یہودیوں کا بڑا سردار) وہاں آیا اور یہودی قیدیوں سے ملاقات کی، ایک مسلمان کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت اور صبیح چہرے والی لونڈی آئی تھی، اس نے مجھ سے کہا: ”کیا آپ میرے ساتھ اس شخص (رأس الجالوت) کے پاس چلیں گے؟ شاید وہ اس لونڈی کے بدلے میں مجھے اچھی قیمت دے دے۔“ میں اس کے ساتھ چل پڑا، ہم ایک نہایت متکبر بوڑھے کے پاس پہنچے جس کا ایک ترجمان تھا، اس بوڑھے نے اپنے پاس موجود ایک آدمی سے کہا: ”اس لونڈی سے پوچھو کہ کیا اس عربی نے اس کے ساتھ قربت کی ہے؟“ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس لونڈی کے حسن کی وجہ سے اس (بوڑھے) کے دل میں غیرت و رشک پیدا ہوا ہے، پھر اس نے اپنی مخصوص زبان میں اس سے کچھ بات کی جسے میں سمجھ گیا، میں نے اس سے کہا: ”تم نے اپنی کتاب (تورات) میں موجود احکامات کے مطابق گناہ کا ارتکاب کیا ہے کہ تم اس لونڈی سے اس کے پوشیدہ جسمانی معاملات کے بارے میں سوال کر رہے ہو۔“ اس نے مجھ سے کہا: ”تم نے جھوٹ بولا، تمہیں کیا معلوم کہ میری کتاب میں کیا لکھا ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”میں تمہاری کتاب کو تم سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔“ اس نے حیرانی سے پوچھا: ”کیا تم میری کتاب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہاں، میں تمہاری کتاب کا تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ اس نے (لوگوں سے) پوچھا: ”یہ کون صاحب ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ ”یہ عبداللہ بن سلام (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“ اس دن میں اس کے پاس سے واپس آ گیا، بعد ازاں اس نے میری طرف ایک قاصد بھیجا کہ ”آپ میرے پاس ضرور تشریف لائیں“ اور میرے لیے ایک سواری بھی بھیجی، میں اجر و ثواب کی نیت سے اس کے پاس چلا گیا کہ شاید وہ اسلام قبول کر لے، اس نے مجھے تین دن تک اپنے پاس ٹھہرائے رکھا، میں اسے تورات پڑھ کر سناتا رہا اور وہ اسے سن کر روتا رہا، میں نے اس سے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ یقیناً وہی نبی (ﷺ) ہیں جن کا تذکرہ تم اپنی کتاب میں پاتے ہو۔“ اس نے مجھ سے کہا: ”اگر میں ایمان لے آیا تو پھر میں یہودیوں کا کیا کروں گا (یعنی ان کے طعن و تشنیع کا کیا بنے گا)؟“ میں نے کہا: ”یہودی اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے تمہارے ذرہ برابر بھی کام نہیں آ سکیں گے“، لیکن اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا اور اس کی بدبختی اس پر غالب آگئی۔
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ۔