❮
❯
حدیث نمبر: 3855
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَ : لَا قَالَ : أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَالْإِنْجِيلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالْقُرْآنَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ نَاشَدَهُ : هَلْ تَجِدُنِي نَبِيًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ؟ قَالَ : سَأُحَدِّثُكَ ، نَجِدُ مِثْلَكَ ، وَهَيْئَتَكَ ، وَمِثْلَ مَخْرَجِكَ ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ هُوَ ، فَنَظَرْنَا ، فَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَنَا هُوَ ، وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي ، وَإِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا .
ترجمہ

سیدنا فلتان بن عاصم الجرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ ﷺ کی نگاہِ مبارک مسجد میں چلتے ہوئے ایک شخص پر تھم گئی، اس شخص نے پکارا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!“ اور وہ جب بھی آپ ﷺ سے گفتگو کرتا تو یہی کہتا: ”اے اللہ کے رسول!“۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم تورات پڑھتے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”اور انجیل بھی؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، اور قرآن بھی؛ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں چاہوں تو اسے بھی پڑھ کر سنا دوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اسے (حق کا) واسطہ دے کر پوچھا: ”کیا تم مجھے تورات اور انجیل میں بحیثیتِ نبی لکھا ہوا پاتے ہو؟“ اس نے کہا: ”میں آپ کو حقیقتِ حال بتاتا ہوں؛ ہم (اپنی کتابوں میں) آپ جیسی صفات، آپ جیسی ہیئت اور آپ کے مقامِ ظہور کی علامات پاتے ہیں، ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ نبی ہم میں سے ہوگا، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ہی وہ نبی نہ ہوں، پھر جب ہم نے دیکھا تو (ہمارے خیال میں) آپ وہ نہ تھے۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! بے شک میں ہی وہ (موعود نبی) ہوں، اور وہ (جن کا کتابوں میں ذکر ہے) میری ہی امت ہے، اور ان کی تعداد ستر ہزار اور ستر ہزار (یعنی بے شمار) سے بھی زائد ہوگی۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد نے اپنی مسند (16162) اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر (825) میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند البزار برقم: 3700، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18698، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 122، 6342/1، 7895»