المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اختص بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: نبی کریم ﷺ کی دیگر انبیاء علیہم السلام پر خصوصی فضیلتوں کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْطَانٌ ، قَالُوا : وَمَعَكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَعِي ، إِلَّا أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ .
3850 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ - ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا جَدِّي هُوَ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَسْلَمَ .
وَهَكَذَا أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ .
وَقَالَ : مَا رَوَى شَرِيكٌ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ وَآخَرَ ، يَعْنِي الَّذِي ذَكَرَهُ مُسَدَّدٌ .
* هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ایسا فرد نہیں ہے مگر اس کے ساتھ ایک شیطان (ہمزاد) لگا دیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، میرے ساتھ بھی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو «فَأَسْلَمَ» ”وہ میرا مطیع ہو گیا (یا مسلمان ہو گیا)“، اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے محض اس کا عمل جنت میں داخل کر سکے“، صحابہ نے عرض کیا: اور کیا آپ کو بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور نہ ہی مجھے، سوائے اس کے کہ اللہ عزوجل مجھے اپنی رحمت کے سائے میں ڈھانپ لے“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے اسے اسی طرح نقل کیا ہے جہاں «فَأَسْلَمَ» ”وہ میرا فرمانبردار ہو گیا“ تک کا ذکر ہے، اور اسی طرح اسے امام بزار نے بشر بن معاذ سے، انہوں نے ابو عوانہ سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ نے اس حدیث اور ایک دوسری روایت کے علاوہ کچھ بیان نہیں کیا، یعنی وہی حدیث جس کا ذکر امام مسدد نے کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔