المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اختص بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: نبی کریم ﷺ کی دیگر انبیاء علیہم السلام پر خصوصی فضیلتوں کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : إِنَّ أَكْرَمَ خَلْقِ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ الْجَنَّةَ فِي السَّمَاءِ ، وَإِنَّ النَّارَ فِي الْأَرْضِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخَلَائِقَ أُمَّةً أُمَّةً ، وَنَبِيًّا نَبِيًّا ، حَتَّى يَكُونَ أَحْمَدُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ آخِرَ الْأُمَمِ مَرْكَزًا ، ثُمَّ يُوضَعُ جِسْرُ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ ؟ فَيَقُومُ ، وَتَتْبَعُهُ أُمَّتُهُ بَرُّهَا وَفَاجِرُهَا .
* هَذَا مَوْقُوفٌ .سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ معزز و مکرم شخصیت ابوالقاسم ﷺ کی ہے، اور یقیناً جنت آسمانوں میں ہے جبکہ جہنم زمین (کی تہوں) میں ہے، پھر جب قیامت کا دن برپا ہوگا تو اللہ عزوجل تمام مخلوقات کو گروہ در گروہ اور ہر نبی کو ان کے متبعین کے ساتھ مبعوث فرمائے گا، یہاں تک کہ سیدنا احمد ﷺ اور آپ کی امت اپنے مقام و مرکز کے لحاظ سے تمام امتوں کے آخر میں ہوں گے، پھر جہنم پر پل (صراط) رکھا جائے گا، جس کے بعد ایک منادی پکارے گا: ”احمد ﷺ اور ان کی امت کہاں ہے؟“ پس آپ ﷺ کھڑے ہو جائیں گے اور آپ کی امت آپ کے پیچھے چلے گی، جس میں ان کے نیکوکار اور بدکار سبھی شامل ہوں گے۔“
یہ روایت موقوف ہے۔