المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اختص بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: نبی کریم ﷺ کی دیگر انبیاء علیہم السلام پر خصوصی فضیلتوں کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : مَا أَمِنَ اللهُ تَعَالَى أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ إِلَّا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَقَالَ لِلْمَلَائِكَةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ : وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ .
* فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں سے کسی کو بھی (مؤاخذے اور گرفت سے) مکمل طور پر بے خوف و مامون نہیں فرمایا سوائے محمد ﷺ کے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کی شان میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ [سورة الفتح: 2] ”تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی خاطر آپ کی اگلی اور پچھلی تمام خطائیں معاف فرما دے“، جبکہ فرشتوں علیہم السلام کے متعلق (انتباہاً) یہ فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ﴾ [سورة الأنبياء: 29] ”اور ان (فرشتوں) میں سے جو کوئی یہ کہے کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں، تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے“۔“
اس کی سند میں کلام (نظر) ہے۔