المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
[وَقَالَ] : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الْأَعْرَابِيَّ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ جِلْدِ بَعِيرٍ . قَالَ : فَتَفَلَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ حَكَّ حَيْثُ تَفَلَ بِنَعْلِهِ .ایک اعرابی (دیہاتی) جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اونٹ کے چمڑے سے بنے ہوئے جوتے پہن رکھے تھے، پس (دورانِ نماز) آپ ﷺ نے اپنی بائیں جانب تھوکا اور پھر اپنے جوتے کے ساتھ اس جگہ کو رگڑ دیا جہاں آپ ﷺ نے تھوکا تھا۔“
اس روایت کو امام احمد نے مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا) ہے جس کی وجہ سے یہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے، تاہم نماز میں جوتے پہننے اور ضرورت پڑنے پر بائیں جانب تھوک کر اسے جوتے سے رگڑ کر صاف کرنے کا مضمون دیگر صحیح احادیث میں موجود ہے۔