المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ - وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلْقَمَةَ - قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ أَتَى أَبَا مُوسَى فِي دَارِهِ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، - فَأَنْتَ أَقْدَمُ مِنِّي سِنًّا وَأَعْلَمُ - . قَالَ : لَا ، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ ، فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ فَأَنْتَ أَحَقُّ . فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللهِ [لَهُ] : مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهِمَا ؟ ! ! ، أَبِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى أَنْتَ . ؟ ! !علقمہ بن قیس سے مروی ہے (اگرچہ راوی کا علقمہ سے سماع ثابت نہیں) کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے، تو نماز کا وقت ہو گیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (ان کے احترام میں) عرض کیا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! آپ امامت کے لیے آگے بڑھیے، کیونکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں اور علم میں بھی مجھ سے فائق ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ آپ ہی آگے تشریف لائیں، کیونکہ ہم آپ کے گھر اور آپ کی مسجد (نماز کی جگہ) میں آپ کے پاس آئے ہیں، لہٰذا آپ ہی امامت کے زیادہ حق دار ہیں۔“ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور (نماز کے لیے) اپنے جوتے اتار دیے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے (بطورِ استفہام) پوچھا: ”آپ نے انہیں اتارنے سے کیا ارادہ کیا تھا؟ کیا آپ ﴿بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى﴾ [سورة طه: 12] میں موجود ہیں؟“
یہ روایت منقطع ہے کیونکہ ابواسحاق کا سماع علقمہ بن قیس سے ثابت نہیں ہے۔