❮
❯
حدیث نمبر: 384
[وَقَالَ] الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " [لِمَ] خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " ، قَالُوا : خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا أَذًى ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِمَا أَذًى فَلْيَخْلَعْهُمَا ، وَإِلَّا فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا " .
مُرْسَلٌ .
ترجمہ

سیدنا بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز ادا فرمائی اور (دورانِ نماز) اپنے جوتے اتار دیے، تو لوگوں نے بھی (آپ کی اتباع میں) اپنے جوتے اتار دیے۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”درحقیقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آ کر خبر دی کہ ان جوتوں میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے جوتے پلٹ کر (ان کے تلے) دیکھ لے، پھر اگر ان میں کوئی گندگی یا آلودگی لگی پائے تو انہیں اتار دے، ورنہ ان میں (پہن کر ہی) نماز پڑھ لیا کرے۔“
یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُرْسَلٌ . »
«أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: بدون ترقيم، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4320، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 384»