المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3842–3844) باب: (احادیث 3842 تا 3844)
حدیث نمبر: 3843
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : بَعَثَتْنِي عَمَّتِي - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجِئْتُهُ وَعِنْدَهُ حِلْيَةٌ أَهْدَاهَا لَهُ صَاحِبُ الْبَحْرَيْنِ ، فَأَخَذَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تِلْكَ الْحِلْيَةِ مِلْءَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، هَذَا لَكِ .ترجمہ
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری پھوپھی نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ ﷺ کے پاس کچھ زیورات موجود تھے جو بحرین کے حاکم نے آپ ﷺ کو بطورِ ہدیہ پیش کیے تھے، پس نبی کریم ﷺ نے ان زیورات میں سے اپنی دونوں ہتھیلیاں بھر کر (ایک مٹھی بھر) اٹھایا اور (نہایت شفقت کے ساتھ) فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! یہ تمہارے لیے ہے“۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کی ہے اور اس کی تخریج امام احمد نے المسند، ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں کی ہے۔