المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3842–3844) باب: (احادیث 3842 تا 3844)
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَدَّمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً ، فَقَالَ : اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى فُلَانَةَ وَأَخَذَ قَبْضَةً ، وَقَالَ : اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى فُلَانَةَ ، حَتَّى قَسَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نِسَائِهِ قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ أَخَذَ قَبْضَةً يَأْكُلُ مِنْهُ ، وَيُلْقِي النَّوَى بِشِمَالِهِ ، فَمَرَّتْ بِهِ دَاجِنَةٌ ، فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ ، فَأَكَلَتْهُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ (ان کی تقسیم کے لیے) اپنے گھٹنوں کے بل تشریف فرما ہوئے اور کھجوروں کی ایک مٹھی بھر کر ارشاد فرمایا: ”یہ لے جاؤ اور فلاں (زوجہ محترمہ) کو دے دو۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک اور مٹھی لی اور فرمایا: ”یہ فلاں کے پاس لے جاؤ۔“ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواجِ مطہرات کے مابین ایک ایک مٹھی کھجوریں تقسیم فرما دیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک مٹھی (اپنے لیے) لی اور اس میں سے تناول فرمانے لگے، اور آپ ﷺ کھجور کی گٹھلیاں نکال کر اپنے بائیں ہاتھ سے ڈالتے جاتے تھے، اسی اثنا میں آپ ﷺ کے پاس سے گھر کا کوئی پالتو جانور (بکری وغیرہ) گزرا تو آپ ﷺ نے وہ گٹھلیاں اسے دے دیں اور اس نے وہ کھا لیں۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن السندی اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم یہ روایت دیگر شواہد و متابعات کے ساتھ حسن کے درجے تک پہنچ سکتی ہے۔