❮
❯
حدیث نمبر: 383
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ] : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، أَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعْلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَخَلَعَ مَنْ خَلْفَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى خَلْعِ نِعَالِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ بِأَحَدِهِمَا قَذَرًا فَخَلَعْتُهُمَا لِذَلِكَ ، فَلَا تَخْلَعُوا نِعَالَكُمْ " .
أَبُو حَمْزَةَ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دورانِ نماز اپنے نعلین مبارک اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود مقتدیوں نے بھی (آپ کی اتباع میں) اپنے جوتے اتار دیے۔ آپ ﷺ نے (نماز کے بعد) دریافت فرمایا: ”تمہیں اپنے جوتے اتارنے پر کس بات نے آمادہ کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”درحقیقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آکر یہ خبر دی کہ ان (جوتوں) میں سے کسی ایک میں گندگی لگی ہوئی ہے، چنانچہ اسی وجہ سے میں نے انہیں اتار دیا، لہٰذا تم اپنے جوتے (بغیر کسی وجہ کے) نہ اتارا کرو۔“
ابو حمزہ نامی راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَبُو حَمْزَةَ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مسند البزار برقم: 1570، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9972، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5013، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 2259، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1179»