المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة يده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومسحه عَلَى وجوه الرجال والنساء وامتناعه مِنْ لمس الْمَرْأَةِ الأجنبية باب: نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک کی برکت، چہروں پر مسح اور غیر محرم عورت کو نہ چھونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَمْسَحَ وَجْهَهَا ، فَمَسَحَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، طَأْطِئْ يَدَكَ بَعْدَمَا قَدْ وَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَيْكِ عَنِّي .
كَذَا فِيهِ ، لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
3839 \ 2 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحَ وَجْهَهَا ، وَكُنَّ يَأْتِينَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، طَأْطِئْ يَدَكَ ، قَالَ : فَدَفَعَهَا ، وَقَالَ : إِلَيْكِ عَنِّي .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی تاکہ آپ ﷺ برکت و شفقت کے طور پر اس کے چہرے پر اپنا دستِ مبارک پھیریں، چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے خیر کی دعا فرمائی، تو اس عورت نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اپنے ہاتھ مبارک کو (سینے کی جانب) مزید نیچے جھکائیے“، اس وقت آپ ﷺ اپنا دستِ مبارک اس کے سینے کے مقام تک لا چکے تھے، تو آپ ﷺ نے اسے خود سے دور ہٹایا اور فرمایا: ”مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ۔“
مسدد کی اس روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا تذکرہ موجود نہیں ہے، جبکہ امام ابو یعلیٰ کی روایت میں ان کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ خواتین آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھیں اور آپ ﷺ ان کے چہروں پر ہاتھ پھیر کر ان کے حق میں دعا فرماتے تھے، مگر جب اس خاتون نے ہاتھ مزید نیچے کرنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے اسے پیچھے دھکیل دیا اور فرمایا: ”مجھ سے دور ہو جاؤ۔“