المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة يده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومسحه عَلَى وجوه الرجال والنساء وامتناعه مِنْ لمس الْمَرْأَةِ الأجنبية باب: نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک کی برکت، چہروں پر مسح اور غیر محرم عورت کو نہ چھونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، امْسَحْ وَجْهِي ، وَادْعُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي ، قَالَ : فَمَسَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهَا ، وَدَعَا اللهَ تَعَالَى لَهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، سَفِّلْ يَدَكَ فَسَفَّلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، سَفِّلْ يَدَكَ فَأَبَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَاعَدَهَا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور التجا کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے چہرے پر اپنا دستِ شفقت پھیر دیجیے اور میرے حق میں اللہ عزوجل سے دعا فرما دیجیے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ اس خاتون نے پھر عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اپنے دستِ مبارک کو مزید نیچے لائیے۔“ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے سینے تک نیچے کر لیا۔ اس نے پھر عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اپنے ہاتھ مبارک کو اور بھی نیچے لے جائیے۔“ لیکن آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے انکار فرما دیا اور اسے اپنے سے دور کر دیا۔
[مسند البزار: 3853، المطالب العالیة: 3838]