المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ إخباره صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بأن فارس تنقرض وَأَنَّ الروم تبقى فكان كذلك باب: نبی کریم ﷺ کی فارس کے زوال اور روم کے باقی رہنے کی پیش گوئی کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَارِسُ نَطْحَةٌ أَوْ نَطْحَتَانِ ، ثُمَّ لَا فَارِسَ بَعْدَ هَذَا أَبَدًا ، وَالرُّومُ ذَاتُ الْقُرُونِ ، كُلَّمَا هَلَكَ قَرْنٌ خَلَفَهُ قَرْنٌ ، أَهْلُ صَبْرٍ ، وَأَهْلُ ( بَحْرٍ ) ، هَيْهَاتَ لِآخِرِ الدَّهْرِ ، هُمْ أَصْحَابُكُمْ ، مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ .ابنِ مُحیریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فارس کی مثال تو محض ایک یا دو ٹکروں کی ہے، پھر اس کے بعد کبھی فارس (کی بادشاہت) نہیں ہو گی، جبکہ رومی کئی سینگوں والے (یعنی کثیر نسلوں اور طویل بقا والی قوم) ہیں، جب بھی ان کا ایک سینگ (نسل یا دور) فنا ہوتا ہے تو دوسرا اس کا جانشین بن جاتا ہے، وہ بڑے صابر و استقلال والے اور سمندری قوت کے مالک ہیں، زمانے کے اختتام تک (ان کا خاتمہ) بعید ہے، اور وہ تمہارے مدمقابل (یا ساتھی) رہیں گے جب تک کہ زندگی میں کوئی بھلائی باقی ہے۔“
یہ حدیث مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ذکر کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، نیز امام بزار نے بھی اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔