❮
❯
حدیث نمبر: 3837
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَارِسُ نَطْحَةٌ أَوْ نَطْحَتَانِ ، ثُمَّ لَا فَارِسَ بَعْدَ هَذَا أَبَدًا ، وَالرُّومُ ذَاتُ الْقُرُونِ ، كُلَّمَا هَلَكَ قَرْنٌ خَلَفَهُ قَرْنٌ ، أَهْلُ صَبْرٍ ، وَأَهْلُ ( بَحْرٍ ) ، هَيْهَاتَ لِآخِرِ الدَّهْرِ ، هُمْ أَصْحَابُكُمْ ، مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ .
ترجمہ

ابنِ مُحیریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فارس کی مثال تو محض ایک یا دو ٹکروں کی ہے، پھر اس کے بعد کبھی فارس (کی بادشاہت) نہیں ہو گی، جبکہ رومی کئی سینگوں والے (یعنی کثیر نسلوں اور طویل بقا والی قوم) ہیں، جب بھی ان کا ایک سینگ (نسل یا دور) فنا ہوتا ہے تو دوسرا اس کا جانشین بن جاتا ہے، وہ بڑے صابر و استقلال والے اور سمندری قوت کے مالک ہیں، زمانے کے اختتام تک (ان کا خاتمہ) بعید ہے، اور وہ تمہارے مدمقابل (یا ساتھی) رہیں گے جب تک کہ زندگی میں کوئی بھلائی باقی ہے۔“
یہ حدیث مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ذکر کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، نیز امام بزار نے بھی اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3837
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 40، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4630»