المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ( مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللهُ لَهُ صَلَاةً مَا كَانَ عَلَيْهِ ) . ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْنَاهُ يَقُولُهُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے دس درہم کی قیمت سے کوئی لباس خریدا اور ان میں سے ایک درہم بھی حرام کا ہوا، تو جب تک وہ لباس اس کے جسم پر رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور فرمایا: ”میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے خود نہ سنا ہو۔“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (813) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں بقیہ بن ولید کی تدلیس اور عثمان بن زفر کی جہالت کی وجہ سے بعض محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس کے متابعات اور شواہد مسند احمد وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔