المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ تواضعه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وإنصافه باب: نبی کریم ﷺ کے تواضع اور انصاف کا بیان۔
( 164 ) فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى ، فِي ذِكْرِ عِيسَى : وَلَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَأُجِيبَنَّهُ - يَأْتِي فِي أَشْرَاطِ السَّاعَةِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے امام ابو یعلیٰ کی روایت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور اگر وہ (عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد) میری قبر پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے پکارا: «يَا مُحَمَّدُ» ”اے محمد (ﷺ)!“، تو میں ضرور بالضرور انہیں جواب دوں گا۔“
یہ روایت (کتاب میں آگے) علاماتِ قیامت کے بیان میں آئے گی۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنَ الْعَوَالِي يَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ ، فَيُجِيبُهُ .سیدنا مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”مدینہ منورہ کے بالائی مضافاتی علاقوں (عوالی) کا رہنے والا کوئی بھی شخص اگر رسول اللہ ﷺ کو آدھی رات کے پہر محض جو کی روٹی کھانے کی دعوت دیتا تو آپ ﷺ اس کی دعوت قبول فرما لیتے تھے۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کے کمالِ اخلاق، زہد اور انتہائی درجے کی عاجزی و انکساری پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ ایک عام شخص کی معمولی دعوت کو بھی، اس کے دور دراز علاقے میں ہونے کے باوجود، رد نہیں فرماتے تھے۔