المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ تواضعه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وإنصافه باب: نبی کریم ﷺ کے تواضع اور انصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُهَيِّئَ مِنْ أَمْرِ أُسَامَةَ شَيْئًا ، إِمَّا مُخَاطٌ أَوْ غَيْرُهُ ، فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْهُ ، فَانْتَزَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ، يَتَوَلَّى ذَلِكَ مِنْهُ .
لَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيقِ الْبَهِيِّ عَنْهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .ترجمہ
سیدنا یحییٰ بن جعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے کچھ کام کریں، وہ یا تو ان کی ناک سے بہنے والی رطوبت تھی یا اس کے علاوہ کچھ اور تھا، پس ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے (بوجہِ طبعی کراہت) اسے ناپسند کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ان سے پکڑ لیا اور خود ہی اس کام کو سرانجام دیا۔“
اس روایت کا ایک شاہد (تائیدی روایت) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے موجود ہے، جسے امام ابن حبان نے ”البہی“ کے طریق سے ان سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔