المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركته حيا وميتا باب: آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور وصال کے بعد آپ کی برکت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبَةَ ، ثَنَا جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، وَمَوْتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَمَا كَانَ مِنْ حَسَنَةٍ حَمِدْتُ اللهَ عَلَيْهِ ، وَمَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ اسْتَغْفَرْتُ اللهَ لَكُمْ .
( 163 ) حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فِي شَعَرِ نَاصِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ .سیدنا بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری زندگی تمہارے لیے سراپا خیر ہے، تم مجھ سے کلام کرتے ہو اور تمہارے لیے (بذریعہ وحی) کلام کیا جاتا ہے، اور میری وفات بھی تمہارے لیے باعثِ خیر ہے، تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس میں جو عمل نیک پاؤں گا اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بجا لاؤں گا، اور جو (گناہ کی صورت میں) کچھ اور ہو گا تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کروں گا۔“
(163) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حدیث جو نبی کریم ﷺ کی پیشانی کے مبارک بالوں کے متعلق ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کے بیان میں مروی ہے۔