المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ طَهَارَةِ دمه وبوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے خون اور پیشاب کی طہارت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةٌ يَبُولُ فِيهَا ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ يَقُولُ : يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، صُبِّي مَا فِي الْفَخَّارَةِ ، فَقُمْتُ لَيْلَةً وَأَنَا عَطْشَى ، فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، صُبِّي مَا فِي الْفَخَّارَةِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قُمْتُ وَأَنَا عَطْشَى ، فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكِ لَنْ تَشْتَكِي بَطْنَكِ بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا أَبَدًا .سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مٹی کا بنا ہوا ایک برتن تھا جس میں آپ ﷺ (رات کے وقت) پیشاب فرمایا کرتے تھے، چنانچہ جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے: ”اے ام ایمن! اس برتن میں جو کچھ ہے اسے بہا دو۔“ (ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) ایک رات میں بیدار ہوئی اور مجھے سخت پیاس لگی ہوئی تھی، تو میں نے وہ پی لیا جو اس برتن میں تھا، پھر نبی کریم ﷺ نے (معمول کے مطابق) فرمایا: ”اے ام ایمن! اس برتن میں جو کچھ ہے اسے بہا دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اٹھی تھی اور مجھے پیاس لگی ہوئی تھی تو جو کچھ اس میں تھا میں نے وہ پی لیا، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ آج کے دن کے بعد تمہارے پیٹ میں کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 7083) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسن بن حرب راوی پر ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، لیکن اس واقعے کے شواہد دیگر طرق سے بھی مروی ہیں۔