❮
❯
حدیث نمبر: 3821
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، اذْهَبْ بِهَذَا الدَّمِ ، فَادْفِنْهُ حَيْثُ لَا يَرَاكَ أَحَدٌ ، فَلَمَّا بَرَزَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَدَ إِلَى الدَّمِ فَشَرِبَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : جَعَلْتُهُ فِي أَخْفَى مَكَانٍ عَلِمْتُ أَنَّهُ يَخْفَى عَنِ النَّاسِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّكَ شَرِبْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلِمَ شَرِبْتَ الدَّمَ ؟ وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ ، وَوَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ .
قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا عَاصِمٍ ، فَقَالَ : كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي بِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِنْ ذَلِكَ الدَّمِ .
3821 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا عامر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ پچھنے (حجامہ) لگوا رہے تھے، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ! اس خون کو لے جاؤ اور اسے کسی ایسی جگہ دفن کر دو جہاں تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے۔“ پس جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے باہر نکلے تو انہوں نے اس خون کا رخ کیا اور اسے پی لیا، پھر جب وہ واپس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے عبداللہ! تم نے اس خون کے ساتھ کیا کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے ایسی انتہائی پوشیدہ جگہ پہنچا دیا ہے جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ وہ لوگوں سے پوشیدہ رہے گی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”شاید تم نے اسے پی لیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے خون کیوں پیا؟“ پھر فرمایا: «وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ، وَوَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ» ”لوگوں کے لیے تمہاری وجہ سے ہلاکت و آزمائش ہے اور تمہارے لیے لوگوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔“
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ ابو عاصم کو سنایا تو انہوں نے کہا: لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ میں موجود غیر معمولی قوت اسی مبارک خون کی وجہ سے تھی۔
امام بزار نے بھی اسے محمد بن مثنیٰ کے واسطے سے موسیٰ بن اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3821
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند البزار برقم: 2210، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14009، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 266، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3884/1، 6453/1»