المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ معرفته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بكلام البهائم باب: نبی کریم ﷺ کے جانوروں کی بات سمجھنے کا بیان۔
( 162 ) حَدِيثُ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - تَقَدَّمَ فِي الْبُيُوعِ .سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا تذکرہ ”کتاب البیوع“ یعنی تجارت اور خرید و فروخت کے احکام و مسائل کے بیان میں پہلے گزر چکا ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام نسائی، امام دارقطنی اور امام ابن حبان نے کی ہے اور یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، فَرَأَى قَرِيبًا مِنْ مِائَةِ ذِئْبٍ قَدْ أَقْعَيْنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَؤُلَاءِ وُفُودُ الذِّئَابِ ، تَسْأَلُكُمْ أَنْ تَرْضَخُوا مِنْ فُضُولِ طَعَامِكُمْ ، وَتَأْمَنُونَ عَلَى مَا سِوَى ذَلِكَ ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَاجَةَ ، قَالَ : فَأْذَنُوهُنَّ ، قَالَ : فَأَذِنُوهُنَّ ، وَلَهُنَّ عُوَاءٌ .
وَتَقَدَّمَ فِي الذَّبَائِحِ حَدِيثٌ فِي الذِّئْبِ .قبیلہ جہینہ یا مزینہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ سو کے قریب بھیڑیے اپنے پچھلے پاؤں کے بل سَرِین زمین پر ٹکا کر بیٹھے ہوئے ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بھیڑیوں کا وفد ہے، یہ تم سے اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ تم اپنی ضرورت سے زائد کھانے میں سے کچھ حصہ ان کے لیے بھی نکال دیا کرو، اور اس کے عوض تم اپنے دیگر مال و اسباب کے حوالے سے ان کے شر سے مامون و محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنی حاجت مندی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم انہیں (بغیر کچھ دیے ہی) جانے کی اجازت دے دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر صحابہ نے انہیں رخصت ہونے کا اشارہ کیا تو وہ بھیڑیے آوازیں نکالتے اور غراتے ہوئے چلے گئے۔
اور ذبائح کے بیان میں بھیڑیے کے متعلق ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے۔