المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن شمائله ووفاء عهده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے حسنِ شمائل اور وفائے عہد کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَهْزٍ الصَّقْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ إِلَى بُسْتَانٍ ، فَجَاءَ آتٍ ، فَدَقَّ الْبَابَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنَسُ ، قُمْ فَافْتَحْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أُعْلِمُهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْلِمْهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قُلْتُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ آتٍ ، فَدَقَّ الْبَابَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنَسُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً ، فَإِذَا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : ثُمَّ جَاءَ آتٍ ، فَدَقَّ الْبَابَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ يَا أَنَسُ ، قُمْ فَافْتَحْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ الْجَنَّةَ ، وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَأَنَّهُ مَقْتُولٌ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَإِذَا عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَأَنَّكَ مَقْتُولٌ ، فَدَخَلَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاللهِ مَا تَغَنَّيْتُ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ ، وَلَا مَسِسْتُ فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ ذَاكَ يَا عُثْمَانُ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .
قَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ فِي تَارِيخِهِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْأَعْلَى ابْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ .
وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ بَكْرِ بْنِ الْمُخْتَارِ .
وَبَكْرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى وَاهِيَانِ ، وَالصَّقْرُ أَوْهَى مِنْهُمَا ، فَلَعَلَّهُ تَحَمَّلَهُ عَنْ بَكْرٍ ، أَوْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، فَقَلَبَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ لِيُرَوِّجَ ، وَلَوْ كَانَ هَذَا وَقَعَ ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِلْأَنْصَارِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - : قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ الرَّجُلَيْنِ : عُمَرُ ، أَوْ أَبُو عُبَيْدَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَلَا مَا قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : الْأَمْرُ شُورَى فِي سِتَّةٍ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ایک باغ میں داخل ہوئے، پھر ایک آنے والے نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اٹھو، اس کے لیے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی نیز میرے بعد خلافت کی خوشخبری سنا دو۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے اس بات سے آگاہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اسے بتا دو۔“ دیکھا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے عرض کیا: آپ کو جنت کی اور رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو۔ پھر ایک اور آنے والا آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ ﷺ نے دوبارہ وہی کلمات ارشاد فرمائے، دیکھا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور شخص نے آ کر دستک دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اٹھو اور اس کے لیے دروازہ کھولو، اسے جنت کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری دو، اور یہ بھی کہ وہ شہید کر دیے جائیں گے۔“ میں نکلا تو دیکھا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی اور آپ کے شہید کیے جانے کی خوشخبری ہو۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، جب سے میں نے آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کی ہے، نہ کبھی کوئی لغو گیت گایا، نہ کبھی باطل تمنا کی اور نہ ہی (برہنہ ہو کر) اپنے ستر کو ہاتھ لگایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عثمان! حقیقت یہی ہے۔“
یہ حدیث من گھڑت (موضوع) ہے۔ اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی تاریخ میں عبد الاعلی بن ابی مساور کے طریق سے اور بزار نے بکر بن مختار کے طریق سے روایت کیا ہے؛ بکر اور عبد الاعلی دونوں ہی نہایت کمزور راوی ہیں، اور صقر تو ان دونوں سے بھی زیادہ ضعیف ہے، شاید اس نے یہ روایت بکر یا عبد الاعلی سے حاصل کی اور اسے رواج دینے کے لیے عبد اللہ بن ادریس کے نام سے الٹ پلٹ کر بیان کر دیا۔ اگر یہ واقعہ صحیح ہوتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انصار سے یہ نہ فرماتے کہ میں تمہارے لیے ان دو افراد یعنی عمر یا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو پسند کرتا ہوں، اور نہ ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے کہ خلافت کا معاملہ چھ افراد کی شوریٰ پر مبنی ہے۔