المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن شمائله ووفاء عهده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے حسنِ شمائل اور وفائے عہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3818
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَامِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : لَمَّا أَسَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ جَاءَ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، قَالَ : فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : هَذَا أَمْرُ الْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی مسجد (مسجدِ نبوی) کی بنیاد رکھی تو آپ ﷺ ایک پتھر لائے اور اسے (بنیاد کے مقام پر) رکھا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک پتھر لائے اور اسے رکھا، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک پتھر لائے اور اسے رکھا، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک پتھر لائے اور اسے رکھا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس (خاص ترتیب اور عمل) کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ میرے بعد امرِ خلافت (کی ترتیب) ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔