المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ إطلاع اللَّهُ إياه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يتكلم بِهِ أعداؤه وغيرهم فِي غيبته باب: اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ کو غائبانہ باتوں سے آگاہ کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو سُفْيَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَالِسًا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ بُيُوتِهِ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَهُوَ فِي مَكَانِهِ : لَيْتَ شِعْرِي بِأَيِّ شَيْءٍ غَلَبْتَنِي ؟ قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى ضَرَبَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : غَلَبْتُكَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ .سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اتنے میں نبی کریم ﷺ اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے گھر سے چادر مبارک اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے (اپنے جی میں) کہا: ”کاش کہ مجھے معلوم ہو جاتا کہ آپ نے کس بنیاد پر مجھ پر غلبہ حاصل کیا؟“ نبی کریم ﷺ ان کی جانب متوجہ ہوئے یہاں تک کہ اپنے دستِ مبارک سے ان کی پشت پر تھپکی دی، پھر ارشاد فرمایا: ”میں نے اللہ عزوجل کی نصرت و توفیق سے تم پر غلبہ پایا ہے۔“ اس پر سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 832) میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔