❮
❯
حدیث نمبر: 3816
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو سُفْيَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَالِسًا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ بُيُوتِهِ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَهُوَ فِي مَكَانِهِ : لَيْتَ شِعْرِي بِأَيِّ شَيْءٍ غَلَبْتَنِي ؟ قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى ضَرَبَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : غَلَبْتُكَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اتنے میں نبی کریم ﷺ اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے گھر سے چادر مبارک اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے (اپنے جی میں) کہا: ”کاش کہ مجھے معلوم ہو جاتا کہ آپ نے کس بنیاد پر مجھ پر غلبہ حاصل کیا؟“ نبی کریم ﷺ ان کی جانب متوجہ ہوئے یہاں تک کہ اپنے دستِ مبارک سے ان کی پشت پر تھپکی دی، پھر ارشاد فرمایا: ”میں نے اللہ عزوجل کی نصرت و توفیق سے تم پر غلبہ پایا ہے۔“ اس پر سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 832) میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3816
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»