المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ شَهَادَةِ الشجرة بنبوته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وطاعتها باب: درخت کے نبی کریم ﷺ کی نبوت کی گواہی اور اطاعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْحَجُونِ ، وَهُوَ كَئِيبٌ حَزِينٌ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَرِنِي الْيَوْمَ آيَةً ، لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي ، فَقِيلَ لَهُ : نَادِ شَجَرَةً ، فَنَادَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَجَرَةً مِنْ قِبَلِ عَقَبَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَتْ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَذَهَبَتْ ، قَالَ : فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي .
3815 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ بِهِ .
3815 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، ثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجُونِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ أَرِنِي آيَةً ، فَقَالَ : ادْعُ شَجَرَةً ، فَدَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَجَرَةً ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَمَرَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
( 161 ) وَحَدِيثُ أُسَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَهُ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقامِ حجون میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ انتہائی ملول اور غمگین تھے، اس موقع پر آپ ﷺ نے بارگاہِ الہی میں عرض کیا: «اللَّهُمَّ أَرِنِي الْيَوْمَ آيَةً ، لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي» ”اے اللہ! آج مجھے کوئی ایسی نشانی دکھا دے کہ جس کے بعد مجھے اپنی قوم میں سے کسی کے جھٹلانے کی کوئی پروا نہ رہے“، چنانچہ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ کسی درخت کو پکاریں، پس نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کی گھاٹی کی سمت سے ایک درخت کو پکارا تو وہ زمین پھاڑتا ہوا حاضر ہوا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر رک گیا اور آپ ﷺ پر سلام عرض کیا، پھر آپ ﷺ نے اسے واپس جانے کا حکم دیا تو وہ چلا گیا، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اب مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میری قوم میں سے کون مجھے جھٹلاتا ہے“۔
امام بزار نے اپنی سند سے اسے ان الفاظ میں بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ حجون میں تھے اور مشرکین نے آپ ﷺ کی دعوت کو رد کر دیا تھا، تو آپ ﷺ نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَرِنِي آيَةً» ”اے اللہ! مجھے کوئی نشانی دکھا دے“، آپ ﷺ سے کہا گیا کہ کسی درخت کو بلائیے، چنانچہ آپ ﷺ نے ایک درخت کو بلایا، اور اس روایت میں یہ صراحت ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو وہ اپنے اگنے کی جگہ پر واپس چلا گیا۔
امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، نیز اس باب میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزشتہ باب میں گزر چکی ہے۔