المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ شَهَادَةِ الشجرة بنبوته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وطاعتها باب: درخت کے نبی کریم ﷺ کی نبوت کی گواہی اور اطاعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ ؟ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَ : وَمَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ الشَّجَرَةُ ، فَدَعَاهَا وَهِيَ عَلَى شَاطِئِ الْوَادِي ، فَجَاءَتْ تَجِدُّ السَّيْرَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَشْهَدَهَا ، فَشَهِدَتْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : آتِي قَوْمِي ، فَإِنْ تَابَعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ ، وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَيْكَ ، فَأَكُونُ مَعَكَ .
3814 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ .
3814 \ 3 - وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ .
قَالَا : ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ بِهِ .
وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر تھا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا، تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم کسی خیر و بھلائی میں رغبت رکھتے ہو؟ (وہ یہ کہ) تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ اس نے سوال کیا: ”آپ کی اس صداقت پر گواہی کون دے گا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ درخت۔“ پھر آپ ﷺ نے اس درخت کو پکارا جو وادی کے کنارے پر واقع تھا، تو وہ درخت زمین چیرتا ہوا اور نہایت تیزی سے چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا، آپ ﷺ نے اس سے گواہی طلب کی تو اس نے تین بار (آپ کی رسالت و توحید کی) گواہی دی، پھر وہ اپنی جگہ واپس لوٹ گیا، اس پر اعرابی نے کہا: ”میں اپنی قوم کی طرف جاتا ہوں، اگر انہوں نے میری بات مان لی تو میں انہیں بھی آپ کے پاس لے آؤں گا، بصورتِ دیگر میں خود آپ کے پاس لوٹ آؤں گا اور آپ کی رفاقت و معیت اختیار کر لوں گا۔“
اسے امام بزار اور امام حسن بن سفیان نے بھی ابن فضیل کے طریق سے روایت کیا ہے، نیز امام ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔