❮
❯
حدیث نمبر: 3800
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الصُّفَيْرَاءِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ لَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَغِيبَ فَلَا يُرَى ، فَنَزَلْنَا بِأَرْضِ فَلَاةٍ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ وَلَا عَلَمٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا جَابِرُ ، انْطَلِقِ ، اجْعَلْ فِي الْإِدَاوَةِ مَاءً ، ثُمَّ انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى لَا نُرَى ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَإِذَا هُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَجَرَتَيْنِ بَيْنَهُمَا أَذْرُعٌ ، فَقَالَ لِي : يَا جَابِرُ ، انْطَلِقْ إِلَى هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ، فَقُلْ لَهُمَا : يَأْمُرُكُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَجْتَمِعَا ، حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا ، فَجَاءَتَا ، فَجَلَسَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُمَا ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا .
قَالَ : وَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَلَاةٍ ، كَأَنَّمَا عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا ، فَعَرَضَتْ لَنَا امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا الصَّبِيُّ يَأْخُذُهُ الشَّيْطَانُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَوَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَخَذَ الصَّبِيَّ ، فَحَمَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُقَدَّمِ الرَّحْلِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَ عَدُوَّ اللهِ ، أَنَا رَسُولُ اللهِ ، ثُمَّ دَفَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيَّ لَهَا ، فَلَمَّا قَضَيْنَا مَسِيرَنَا ، مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ ، عَرَضَتْ لَنَا الْمَرْأَةُ وَصَبِيُّهَا ، وَمَعَهَا كَبْشَانِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اقْبَلْ مِنِّي هَذَيْنِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَادَ إِلَيْهِ بَعْدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا أَحَدَهُمَا ، وَرُدُّوا الْآخَرَ قَالَ : ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسِرْنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا ، كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرَ تُظِلُّنَا ، فَإِذَا جَمَلٌ نَادٌّ ، فَجَاءَ حَتَّى خَرَّ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ سَاجِدًا ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لِلنَّاسِ : مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْجَمَلِ ؟ قَالَ فِتْيَةٌ مِنَالْأَنْصَارِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - : هُوَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالُوا : سَنَيْنَا عَلَيْهِ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَكَانَ بِهِ شُحَيْمَةٌ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ وَنَقْسِمَهُ بَيْنَ غِلْمَانِنَا ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتَبِيعُونِيهِ ؟ قَالُوا : بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا لَا ، فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَحْنُ أَوْلَى بِالسُّجُودِ لَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَسْجُدَ بَشَرٌ لِأَحَدٍ ، كَانَ النِّسَاءُ لِأَزْوَاجِهِنَّ .
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ فِي مُسْنَدِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِطُولِهِ .
وَإِسْمَاعِيلُ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ ذَكَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ أَنَّهُ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ .
وَأَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ فِي الطَّهَارَةِ : كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ ، حَسْبُ .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، آپ ﷺ کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ جب رفعِ حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس قدر دور نکل جاتے کہ نظروں سے اوجھل ہو جاتے۔ ایک مرتبہ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جہاں نہ کوئی درخت تھا اور نہ کوئی نشان، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جابر! چلو، مشکیزے میں پانی بھر لو، پھر ہمارے ساتھ چلو یہاں تک کہ ہم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ) آپ ﷺ کے سامنے دو درخت تھے جن کے درمیان چند ہاتھوں کا فاصلہ تھا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے جابر! ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ تم دونوں آپس میں مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں۔“ چنانچہ وہ دونوں درخت (حکم پاتے ہی) قریب آ کر مل گئے، آپ ﷺ ان کے پیچھے بیٹھ گئے، پھر (فراغت کے بعد) وہ دونوں اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس بیابان میں (اس قدر سکون اور باادب) تھے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہمیں سایہ کر رہے ہوں، اسی دوران ایک عورت اپنا بچہ لے کر ہمارے سامنے آئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس بچے کو شیطان ہر روز تین مرتبہ اپنی گرفت میں لیتا (یعنی اسے دورے پڑتے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ٹھہر گئے، پھر اس بچے کو پکڑا اور اسے اپنے سامنے کجاوے کے اگلے حصے پر بٹھا لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «اخْسَ عَدُوَّ اللهِ ، أَنَا رَسُولُ اللهِ» ”اے اللہ کے دشمن! ذلیل و خوار ہو کر دفع ہو جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔ جب ہم اپنا سفر مکمل کر کے (واپسی پر) اسی مقام سے گزرے تو وہ عورت اپنے بچے کے ساتھ پھر ملی، اس کے پاس دو مینڈھے تھے، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری طرف سے یہ ہدیہ قبول فرما لیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اس (بیماری) نے اس بچے کی طرف دوبارہ رخ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے (اور ہمارا حال وہی تھا) گویا ہمارے سروں پر پرندے ہمیں سایہ کر رہے ہوں، اچانک ایک بھاگتا ہوا اونٹ آیا اور وہ لوگوں کی دونوں صفوں کے درمیان آ کر سجدے میں گر پڑا۔ رسول اللہ ﷺ ٹھہر گئے اور لوگوں سے دریافت فرمایا: ”اس اونٹ کا مالک کون ہے؟“ انصار کے چند نوجوانوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا معاملہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ہم بیس سال سے اس پر پانی ڈھو رہے ہیں، اب اس پر کچھ چربی چڑھ گئی (یعنی فربہ ہو گیا) تو ہم نے ارادہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اپنے غلاموں میں تقسیم کر دیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: بلکہ اے اللہ کے رسول! یہ آپ ہی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نہیں بیچتے تو (چلو خیر) اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرو یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم تو چوپایوں سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر کسی انسان کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے، تو میں حکم دیتا کہ عورتیں اپنے شوہروں کو سجدہ کرتیں۔“
اسے امام دارمی نے اپنی مسند میں عبید اللہ کے واسطے سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔ اسماعیل نامی راوی سیء الحفظ (کمزور حافظے والے) ہیں اور امام دارقطنی نے ذکر کیا ہے کہ اس طویل حدیث کو بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اس کا صرف ابتدائی حصہ (طہارت کے بیان میں) ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”آپ ﷺ جب رفعِ حاجت کا ارادہ فرماتے تو اتنی دور تشریف لے جاتے کہ کوئی آپ کو دیکھ نہ پاتا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3800
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: وَإِسْمَاعِيلُ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ ذَكَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ أَنَّهُ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ . »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 2، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 335، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 17، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 504، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 253، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6466»