المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ علامات النبوة باب: نبوت کی علامات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ ، وَجَوَامِعَهُ ، وَخَوَاتِمَهُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ تَعَالَى ، فَعَلَّمَنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ .سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کلام کے فصیح و بلیغ آغاز، اس کے جامع ترین کلمات اور اس کے بہترین نچوڑ و اختتام کی صلاحیت عطا کی گئی ہے“، راوی کہتے ہیں کہ اس پر ہم نے عرض کی: ”(اے اللہ کے رسول!) اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم سکھایا ہے اس میں سے ہمیں بھی کچھ تعلیم فرمائیے“، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں تشہد سکھایا۔
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی ضعیف راوی ہے، تاہم رسول اللہ ﷺ کو جوامع الکلم دیے جانے اور تشہد کی تعلیم کا اصل موضوع دیگر صحیح و مستند احادیث میں بھی موجود ہے۔