المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ علامات النبوة باب: نبوت کی علامات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً قَبْلَ وَفَاتِهِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ كَائِنٌ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، أَوَّلُهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ ، وَصَاحِبُ صَنْعَاءَ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی رحلت سے قبل ہمیں ایک (جامع) خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد) بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً اس امت میں تیس کذاب (جھوٹے مدعیانِ نبوت) پیدا ہوں گے، جن میں سب سے پہلا یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) اور (دوسرا) صنعاء والا (اسود عنسی) ہوگا۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، مگر اس کی سند سخت ضعیف اور منکر ہے کیونکہ اس کے راوی میسرہ بن عبد ربہ کو محدثین نے کذاب و وضاع اور داؤد بن محبر کو متروک قرار دیا ہے۔