المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ ، وَأَبُو بَكْرٍ جَمِيعًا : عَنْ عُقْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي [الْقَوْسِ] .
فَقَالَ : " صَلِّ فِي [الْقَوْسِ] ، وَاطْرَحِ الْقَرْنَ " .
379 \ 2 - قَالَ إِسْحَاقُ : وَكَانَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا بِهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ ، وَفَسَّرَهُ عِيسَى ، قَالَ : الْقَرَنُ : الْجُعْبَةُ الصَّغِيرَةُ تَكُونُ مَعَ الصَّيَّادِينَ .
379 \ 3 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ، عَنْ مُوسَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
379 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهِ .سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کمان لٹکا کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم کمان پہن کر نماز پڑھ لیا کرو، لیکن ترکش اتار دیا کرو۔“
اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے بھی ہمیں عقبہ بن خالد کے واسطے سے یہ حدیث سنائی اور عیسیٰ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ”القرن“ سے مراد وہ چھوٹا ترکش یا تیروں کا تھیلا ہے جو شکاریوں کے پاس ہوتا ہے۔
نیز اسحاق نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن نافع صائغ نے بھی موسیٰ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی ہے۔
اور امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابوبکر نے یہی حدیث بیان کی ہے۔