المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصَّلَاةِ وَمَا لَا يُجْتَنَبُ باب: نماز میں قابلِ اجتناب اور غیر قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 380
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُعَسْكَرِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَثَبْنَا إِلَى قِسِيِّنَا وَسُيُوفِنَا فَصَلَّيْنَا فِيهَا بِمَنْزِلَةِ الرِّدَاءِ ) .ترجمہ
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ لشکر گاہ (فوجی چھاؤنی) میں ہوتے اور نماز کے لیے اقامت کہی جاتی، تو ہم فوراً اپنی کمانوں اور تلواروں کی جانب لپکتے (انہیں اٹھا لیتے) اور پھر انہیں چادر کی جگہ (بدن پر لٹکا کر یا تھام کر) اس طرح نماز ادا کرتے کہ وہ ہمارے لیے ایک چادر کے قائم مقام ہوتیں۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت حالتِ جنگ یا دفاعی ضرورت کے پیشِ نظر اسلحہ سمیت نماز ادا کرنے کی فقہی مشروعیت کو واضح کرتی ہے۔