المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ تَبَّتْ باب: سورہ تبت۔
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ - أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ ، وَلَهَا وَلْوَلَةٌ ، وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ ، وَهِيَ تَقُولُ : مُذَمَّمًا أَبَيْنَا ، وَدِينَهُ قَلَيْنَا ، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ قَرَأَ قُرْآنًا ، وَمَعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدْ أَقْبَلَتْ ، وَأَخَافُ أَنْ تَرَاكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي ، وَقَرَأَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنًا اعْتَصَمَ بِهِ ، كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا فَأَقْبَلَتْ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَا ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ ، قَالَ : فَوَلَّتْ ، وَهِيَ تَقُولُ : قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي ابْنَةُ سَيِّدِهَا .
قَالَ : وَقَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ ، أَوْ قَالَهُ غَيْرُهُ : فَعَثَرَتْ أُمُّ جَمِيلٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي مِرْطِهَا ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مُذَمَّمٌ ، فَقَالَتْ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : إِنِّي لَحَصَانٌ فَمَا أُكَلَّمُ ، ثَقَافٌ فَمَا أُعَلَّمُ ، وَكِلْتَانَا مِنْ بَنِي الْعَمِّ ، ثُمَّ قُرَيْشٌ بَعْدَهُ أَعْلَمُ .
3788 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ ، عَنْ أَسْمَاءَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، بِطُولِهِ .سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] نازل ہوئی تو کانی عورت ام جمیل بنت حرب، چیختی چلاتی ہوئی سامنے آئی، اس کے ہاتھ میں ایک پتھر کا ٹکڑا تھا اور وہ یہ پڑھ رہی تھی: «مُذَمَّمًا أَبَيْنَا، وَدِينَهُ قَلَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا» ”ہم نے اس قابلِ مذمت (معاذ اللہ) کا انکار کیا، اس کے دین سے بیزاری اختیار کی اور اس کے حکم کی نافرمانی کی“۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے ہمراہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے، جب آپ ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ عورت آ پہنچی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ یہ آپ کو دیکھ نہ لے“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ پائے گی“، اور آپ ﷺ نے قرآن کی وہ آیات تلاوت فرمائیں جن کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا﴾ [سورة الإسراء: 45] ”اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں“۔ پس وہ عورت آگے آئی یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی مگر اسے رسول اللہ ﷺ نظر نہ آئے، اس نے کہا: ”اے ابوبکر! مجھے خبر ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے میری ہجو (مذمت) کی ہے؟“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”نہیں، اس گھر (کعبہ) کے رب کی قسم! انہوں نے تمہاری کوئی ہجو نہیں کی“، یہ سن کر وہ پیٹھ پھیر کر واپس مڑ گئی اور یہ کہہ رہی تھی کہ: ”قریش بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں“۔
راوی کہتے ہیں کہ ولید نے اپنی روایت میں ذکر کیا یا کسی اور نے یہ بیان کیا کہ ام جمیل بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑی تو اس نے کہا: «تَعِسَ مُذَمَّمٌ» ”وہ قابلِ مذمت (شخص) برباد ہو جائے“، اس پر سیدنا عبدالمطلب کی صاحبزادی ام حکیم نے (جواباً) کہا: ”میں ایک باوقار اور پاکدامن عورت ہوں جس سے کوئی (نامحرم) کلام نہیں کر سکتا، میں نہایت سمجھدار ہوں جسے سکھانے کی ضرورت نہیں، اور ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی چچا زاد ہیں، اور اس کے بعد قریش زیادہ بہتر جانتے ہیں (کہ حق و عزت کس کے پاس ہے)“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس روایت کو اسحاق بن ابراہیم کے واسطے سے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے ولید بن کثیر سے اور انہوں نے ابن تدرس سے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مفصل روایت کیا ہے۔