المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة إِذَا جَاءَ نصر اللَّهُ والفتح باب: سورہ ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : هَذِهِ السُّورَةُ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ بِمِنًى ، وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - حَتَّى خَتَمَهَا ; فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ الْوَدَاعُ . الْحَدِيثَ .
3787 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِطُولِهِ .
3787 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - هُوَ ابْنُ حَرْبٍ - ، ثَنَا بُهْلُولٌ - هُوَ ابْنُ مُوَرِّقٍ - ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، بِطُولِهِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”یہ سورت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1-3] رسول اللہ ﷺ پر حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں ایامِ تشریق کے وسط (درمیانی ایام) میں نازل ہوئی، آپ ﷺ نے اسے آخر تک تلاوت فرمایا؛ تو رسول اللہ ﷺ سمجھ گئے کہ یہ دنیا سے رخصت ہونے یعنی وداع کی اطلاع ہے“۔
اس حدیث کو امام ابو بکر بن ابی شیبہ نے زید بن حباب کی سند سے روایت کیا ہے، نیز عبد بن حمید نے اسے ابوبکر سے مفصل نقل کیا ہے، اور امام ابو یعلیٰ نے زہیر بن حرب کی سند سے بہلول بن مورق کے واسطے سے موسیٰ بن عبیدہ سے اس کی تخریج کی ہے جس میں انہوں نے صدقہ بن یسار اور عبداللہ بن دینار دونوں سے اسے مفصل روایت کیا ہے۔