المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ تَبَّتْ باب: سورہ تبت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ - جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ ، فَلَوْ قُمْتَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا يَقُولُ الشِّعْرَ ، قَالَتْ : أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ ، وَانْصَرَفَتْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَمْ تَرَكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي بِجَنَاحِهِ .
3789 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بِهِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورہ ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی نبی کریم ﷺ کی طرف آئی، اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہمراہ تھے، پس جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے آتے دیکھا تو عرض گزار ہوئے: ”اے اللہ کے رسول! یہ ایک نہایت بدزبان اور دریدہ دہن عورت ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو کوئی دکھ پہنچائے گی، لہٰذا کیا ہی بہتر ہو کہ آپ یہاں سے تشریف لے چلیں؟“ نبی کریم ﷺ نے اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ پائے گی۔“ پھر وہ عورت وہاں پہنچی اور کہنے لگی: ”اے ابوبکر! تمہارے صاحب نے میری ہجو (شاعری میں مذمت) کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”وہ تو شعر و شاعری کرتے ہی نہیں ہیں۔“ اس نے کہا: ”میرے نزدیک آپ کی بات سچی اور قابلِ اعتبار ہے“، اور وہ واپس چلی گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا واقعی اس نے آپ کو نہیں دیکھا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک فرشتہ مسلسل اپنے پر کے ساتھ مجھے اس کی نظروں سے اوجھل کیے ہوئے تھا۔“
امام بزار رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابراہیم بن سعید جوہری اور احمد بن اسحاق سے، انہوں نے ابواحمد کے واسطے سے اسی سابقہ سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔