المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قل يا أيها الكافرون باب: سورت ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 3786
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جُبَارَةُ ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ مَيْمُونٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ؟ تَقْرَؤُونَ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ عِنْدَ مَنَامِكُمْ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک ایسے کلمے کی رہنمائی نہ کروں جو تمہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے نجات دلا دے؟ تم سوتے وقت «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ”کہہ دیجیے اے کافروں!“ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] پڑھا کرو۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں جبارہ بن مغلس اور حجاج بن تمیم ضعیف راوی ہیں، تاہم سونے سے قبل اس سورت کی تلاوت کے فضائل دیگر صحیح اور مستند احادیث سے بھی ثابت ہیں۔