المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قل يا أيها الكافرون باب: سورت ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، ثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ هُوَ فِيهِمْ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً يَقُولُ : نِعْمَ السُّورَتَانِ قَرَأْتُهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ : الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ .رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی زبانِ مبارک سے بیس سے زائد مرتبہ یہ ارشادِ گرامی سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”وہ دو سورتیں کتنی ہی بہترین اور عمدہ ہیں جنہیں میں نے (سنت کی) دو رکعتوں میں پڑھا ہے: (ایک) ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ﴾ [سورة الإخلاص: 1-2] اور (دوسری) ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] ہے۔“
اس حدیث کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے لیکن صحابی کا ابہام روایت کی حجیت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل اور معتبر ہیں۔