❮
❯
حدیث نمبر: 3784
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَكَمِ الْقُدَيْدِيُّ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ الرِّفَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبُّ يَا جُبَيْرُ إِذَا خَرَجْتَ سَفَرًا أَنْ تَكُونَ مِنْ أَمْثَلِ أَصْحَابِكَ هَيْئَةً ، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاقْرَأْ هَذِهِ السُّوَرَ الْخَمْسَ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَافْتَتِحْ كُلَّ سُورَةٍ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَاخْتِمْ قِرَاءَتَكَ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . قَالَ جُبَيْرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَكُنْتُ غَنِيًّا ، كَثِيرَ الْمَالِ ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فِي سَفَرٍ ، فَأَكُونُ مِنْ أَبَذِّهِمْ هَيْئَةً ، وَأَقَلِّهِمْ زَادًا ، فَمَا زِلْتُ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَرَأْتُ بِهِنَّ أَكُونُ مِنْ أَحْسَنِهِمْ هَيْئَةً ، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا ، حَتَّى أَرْجِعَ مِنْ سَفَرِي .
ترجمہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے جبیر! کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ جب تم کسی سفر پر نکلو تو اپنے تمام ساتھیوں میں سب سے عمدہ ظاہری حالت اور بہترین حلیے والے ہو جاؤ اور ان سب سے بڑھ کر توشہ و زادِ راہ رکھنے والے بنو؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، (میں یقیناً یہی چاہتا ہوں)۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو تم (سفر کے دوران) یہ پانچ سورتیں پڑھا کرو: ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1]، ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1]، ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1]، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1]؛ اور ہر سورت کا آغاز «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ سے کرو اور اپنی قراءت کا اختتام بھی «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ پر کرو۔“ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مالدار اور صاحبِ ثروت آدمی تھا، مگر (اس نبوی نسخے پر عمل سے پہلے) جب بھی میں سفر پر نکلتا تو اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ پراگندہ حال، شکستہ صورت اور قلتِ زادِ راہ کا شکار ہوتا تھا، پھر جب سے رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ سورتیں سکھائیں اور میں نے ان کی باقاعدہ تلاوت شروع کی، تو میں اپنے سفر سے واپسی تک اپنے رفقاء میں سب سے عمدہ حالت اور کثیر زادِ راہ والا رہنے لگا۔
أخرجه أبو يعلى في مسنده، وصححه الضياء المقدسي في الأحاديث المختارة.

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7419»