المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَاعُونِ باب: سورہ الماعون۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا جِدًّا ، فِيهِ : وَمَنْ مَنَعَ الْمَاعُونَ جَارَهُ إِذَا احْتَاجَ إِلَيْهِ ، مَنَعَهُ اللهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَوَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ ، وَمَنْ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ هَلَكَ آخِرَ مَا عَلَيْهِ ، وَلَا يُقْبَلُ لَهُ عُذْرٌ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک نہایت طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں یہ بات بھی مذکور تھی: ”اور جس شخص نے اپنے پڑوسی کو ضرورت کے وقت عام استعمال کی اشیاء (ماعون) دینے سے منع کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے فضل و احسان سے محروم فرما دے گا اور اسے اس کے اپنے ہی نفس کے سپرد کر دے گا، اور جسے اللہ نے اس کے اپنے نفس کے حوالے کر دیا وہ اپنے آخری انجام کے اعتبار سے ہلاک و برباد ہو گیا اور اس کا کوئی عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔“
اس حدیث کی سند میں داؤد بن محبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے کذاب راوی شامل ہیں، لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف اور من گھڑت ہے؛ امام ابنِ جوزی اور دیگر ائمہِ جرح و تعدیل نے اسے موضوعات میں شمار کیا ہے۔