المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سورة إِذَا زلزلت باب: سورۂ زلزال۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ ، أَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَتَغَدَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ فَأَمْسَكَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كُلُّ مَا عَمِلْنَاهُ مِنْ سُوءٍ رَأَيْنَاهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَوْنَ مِمَّا تَكْرَهُونَ فَذَلِكَ مِمَّا تُجْزَوْنَ بِهِ ، وَيُؤَخَّرُ الْخَيْرُ لِأَهْلِهِ فِي الْآخِرَةِ .
3782 \ 2 - أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بِمَعْنَاهُ فِي سُؤَالِهِ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي بَكْرِ ابْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
3782 \ 3 - وَأَخْرَجَ التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ، وَالطَّرِيقُ الَّتِي سُقْنَاهَا صَحِيحَةٌ إِنْ كَانَ أَبُو أَسْمَاءَ سَمِعَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابواسماء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے کہ اسی اثنا میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] یعنی ”پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔“ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (کھانے سے) ہاتھ روک لیا اور عرض گزار ہوئے: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے جو بھی برا کام کیا ہے ہم اس کا بدلہ دیکھ لیں گے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں (دنیا میں) جو بھی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جسے تم ناپسند کرتے ہو، تو وہ انہی برائیوں کا بدلہ ہوتا ہے جو تمہیں (دنیا ہی میں) دے دیا جاتا ہے، جبکہ نیکیوں کا اجر ان کے مستحقین کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔“
اسے امام احمد رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ [سورة النساء: 123] کے متعلق ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی کے واسطے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ نیز امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے طریق سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اس کی (بعض اسناد میں) ضعف ہے، البتہ وہ سند جسے ہم نے یہاں بیان کیا ہے وہ صحیح ہے بشرطیکہ ابواسماء کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو جائے۔