المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّكْوِيرِ باب: سورہ تکویر۔
حدیث نمبر: 3776
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : فَمَا الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ؟ قَالَ : الْكَوَاكِبُ ، يَعْنِي عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، ذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ .ترجمہ
سیدنا خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿الْجَوَارِ الْكُنَّسِ﴾ [سورة التكوير: 16] کے متعلق دریافت کیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اس سے مراد ستارے ہیں“، اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں فرمایا ہے۔
اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔