المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّكْوِيرِ باب: سورہ تکویر۔
حدیث نمبر: 3777
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ قَالَ : تَزْوِيجُهَا أَنْ يُؤَلِّفَ كُلَّ قَوْمٍ إِلَى شَبَهِهِمْ .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ﴾ [سورة التكوير: 7] کے متعلق ارشاد فرمایا: ”جانوں کے جوڑے بنائے جانے سے مراد یہ ہے کہ (قیامت کے دن) ہر طرح کے لوگوں کو ان جیسے اوصاف اور ہم مثل کردار رکھنے والے افراد کے ساتھ اکٹھا کر دیا جائے گا۔“
اس اثر کو امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، جس میں قیامت کے دن انسانوں کے ان کے ہم مشرب اور ہم صفت گروہوں کے ساتھ الحاق کی بہترین علمی تفسیر بیان کی گئی ہے۔