المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ سَأَلَ باب: سورۂ معارج۔
حدیث نمبر: 3766
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : نَـزَّاعَةً لِلشَّوَى قَالَ : لَحْمُ السَّاقَيْنِ .ترجمہ
ابو صالح رحمہ اللہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان ﴿نَزَّاعَةً لِلشَّوَىٰ﴾ [سورة المعارج: 16] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”اس سے مراد پنڈلیوں کا گوشت ہے“۔
اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یحییٰ بن سعید القطان، سفیان ثوری اور اسماعیل بن ابی خالد جیسے جلیل القدر اور ثقہ ائمہ شامل ہیں، جو سلف کے تفسیری آثار میں اس کی استنادی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔